Transliteration: (Fasbir inna wa'dal laahi haqq; fa immaa nuriyannak ba'dal lazee na'i duhum aw natawaffayannaka fa ilainaa yurja'oon)
{فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ
اللّٰهِ حَقٌّ:
تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔} اس آیت کا خلاصہ
یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کے
جھگڑوں اور دیگر چیزوں سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچی ہے اس
پر صبر فرمائیں،بیشک اللہ تعالیٰ نے کفار
کوعذاب دینے کا جووعدہ فرمایا وہ سچا ہے، اور اس عذاب کا کچھ حصہ اگر ہم آپ کی
وفات سے پہلے دنیا میں ہی آپ کو دکھا دیں تو وہ آپ ملاحظہ
فرمائیں اور اگر ہم انہیں عذاب دینے سے پہلے ہی آپ کو وفات
دے د یں تو آپ آخرت میں کافروں کے عذاب کو
ضرور دیکھ لیں گے کیونکہ قیامت کے دن انہیں بہر حال ہماری
طرف ہی لوٹ کر آنا اور شدید عذاب میں گرفتار ہونا ہے۔( روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۷۷، ۸ / ۲۱۴، جلالین، غافر، تحت الآیۃ: ۷۷، ص۳۹۶، ملتقطاً)
یاد
رہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا
میں بھی کافروں کے عذاب کا کچھ حصہ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دکھایا جیسا کہ
جنگِ بدر کے دن کافر مارے گئے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ غافر آیت 77 تفسیر