قرآن - 14:38 سورہ ابراھیم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

38
رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعۡلَمُ مَا نُخۡفِي وَمَا نُعۡلِنُۗ وَمَا يَخۡفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ

Transliteration: (Rabbanaaa innaka ta'lamu maa nukhfee wa maa nu'lin; wa maa yakhfaa 'alal laahi min shai'in fil ardi wa laa fis samaaa')

ترجمہ: کنزالایمان - رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُؕ- وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ(38) || اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں نہ آسمان میں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اے ہمارے رب! تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر زمین اور آسمان میں کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں ۔ || اے ہمارے رب! تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر زمین اور آسمان میں کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ابراھیم آیت 38 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{رَبَّنَا:اے ہمارے رب!} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے ہمارے رب ! عَزَّوَجَلَّ، تو ہمارے حالات کو،ہماری ضرورتوں  اور ہمارے نقصانات کو جانتا ہے اور تو ہم پر ہم سے زیادہ رحم فرماتا ہے، اس لئے تیری بارگاہ میں  ہمیں  دعا کرنے کی حاجت تو نہیں  لیکن ہم تیرے حضور دستِ دعا اس لئے بلند کرتے ہیں  تاکہ ہم تیرے آگے اپنی بندگی کا اظہار کریں ، تیری عظمت و جلال سے خوف کھائیں۔(خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳ / ۸۸)

{وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ:اور اللّٰہ پر کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں ۔} ایک قول یہ ہے کہ حضر ت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تصدیق کے طور اللّٰہ تعالیٰ نے یہ کلا م فرمایا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہی کلام ہے اور معنی یہ ہے کہ جو ہر جگہ میں  چھپی ہوئی چیزوں  کو جانتا ہے ا س سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۸، ۷ / ۱۰۵)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now