قرآن - 19:10 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

10
قَالَ رَبِّ ٱجۡعَل لِّيٓ ءَايَةٗۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَ لَيَالٖ سَوِيّٗا

Transliteration: (Qaala Rabbij 'al leee Aayah; qaala Aayatuka allaa tukalliman naasa salaasa layaalin sawiyyaa)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ-قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا(10) || عرض کی اے میرے رب مجھے کوئی نشانی دے دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر ۔ ترجمہ: کنزالعرفان عرض کی: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تم بالکل تندرست ہوتے ہوئے بھی تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرسکو گے۔ || عرض کی: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تم بالکل تندرست ہوتے ہوئے بھی تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرسکو گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 10 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً:عرض کی: اے میرے رب!میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرمادے۔} حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجب یہ بتا دیا گیا کہ اسی عمر میں  بیٹا عطا ہوگا تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید عرض کی :اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میری بیوی کے حاملہ ہونے کی کوئی نشانی بتادی جائے تاکہ میں  اس وقت سے تیری ا س عظیم نعمت کا شکرادا کرنے میں  مشغول ہو جاؤں ۔  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ کے لئے آپ کی زوجہ کے حاملہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ آپ صحیح سالم ہونے کے باوجود اور گونگا ہونے کے بغیرتین دن رات لوگوں  سے کلام نہ کرسکیں  گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان ایام میں  آپ لوگوں  سے کلام کرنے پر قادر نہ ہوئے ، البتہ جب  اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہتے تو زبان کھل جاتی تھی۔( روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۵ / ۳۱۷-۳۱۸، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳ / ۲۳۰، ملتقطاً)

حقیقی مُؤثِّر  اللہ تعالیٰ ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو گُنگ کی بیماری نہ ہوگی کیونکہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس بیماری سے محفوظ ہیں ۔ نیز یہ نشانی بھی بڑی دلچسپ تھی کہ ذِکْرُ اللہ کریں  تو بالکل آسانی سے ہوجائے اور لوگوں  سے کلام فرمانا چاہیں  تو نہ کرسکیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مُؤثِّرِ حقیقی  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور بقیہ اَشیاء صرف اَسبابِ ظاہری ہیں  ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو آگ سے پیاس بجھے اور پانی سے آگ لگے ۔ آگ کا جلانا اور پانی کا پیاس بجھانا سب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کرنے سے ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now