قرآن - 19:38 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

38
أَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَأَبۡصِرۡ يَوۡمَ يَأۡتُونَنَا لَٰكِنِ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٱلۡيَوۡمَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ

Transliteration: (Asmi' bihim wa absir Yawma ya'toonanaa laakiniz zaalimoonal yawma fee dalaalin mubeen)

ترجمہ: کنزالایمان - اَسْمِـعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْۙ-یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(38) || کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہوں گے مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اس دن کتنا سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہوں گے لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں ۔ || اس دن کتنا سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہوں گے لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 38 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَسْمِـعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ:اس دن کتنا سنتے اور دیکھتے ہوں  گے۔} یعنی قیامت کے دن جب کافر ہمارے پاس حاضر ہوں  گے تو اس دن خوب سنتے اور دیکھتے ہوں  گے لیکن چونکہ انہوں  نے دنیا میں  حق کے دلائل کو نہیں  دیکھا اور  اللہ تعالیٰ کی وعیدوں  کو نہیں  سنا تو اُس دن کا دیکھنا او رسننا انہیں  کچھ نفع نہ دے گا ۔ بعض مفسرین نے کہا کہ یہ کلام ڈرانے کے طور پر ہے کہ اس دن (وہ اپنے بارے میں ) ایسی ہولناک باتیں  سنیں  اور دیکھیں  گے جن سے ان کے دل پھٹ جائیں  گے، لیکن آج دنیا میں  ظالم کھلی گمراہی میں  ہیں  ،نہ حق دیکھتے ہیں  نہ حق سنتے ہیں  بلکہ بہرے اور اندھے بنے ہوئے ہیں  ، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواِلٰہ اور معبود ٹھہراتے ہیں  حالانکہ انہوں  نے صراحت کے ساتھ اپنے بندہ ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now