قرآن - 19:40 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

40
إِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ ٱلۡأَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَإِلَيۡنَا يُرۡجَعُونَ

Transliteration: (Innaa nahnu narisul arda wa man 'alaihaa wa ilainaa yurja'oon (section 2))

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ(40) || بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور وہ ہماری ہی طرف پھریں گے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور ہماری ہی طرف انہیں لوٹایا جائے گا۔ || بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور ہماری ہی طرف انہیں لوٹایا جائے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 40 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا:بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے۔} ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اس وقت سب کچھ فنا ہو جائے گا اور میری ذات کے سوا کوئی باقی رہے گا نہ کسی کی ظاہری ملکیت باقی ہو گی( اور جب لوگوں کو زندہ کیا جائے گا تو )انہیں ہماری ہی طرف لوٹایا جائے گا اور ہم انہیں ان کے اعمال کی جزا دیں گے۔( مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۶۷۴)

گناہگاروں کے لئے مقامِ خوف:

اس آیت میں گناہگاروں کے لئے عظیم ڈر اور تنبیہ ہے کہ دنیامیں انہوں نے جس رب تعالیٰ کی نافرمانیاں کی ہیں اور ا س کے دئیے ہوئے اَحکامات کو پامال کیا ہے قیامت کے دن انہیں اسی کی بارگاہ میں لوٹ کر جانا ہے اور اسی کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دے گا تو گناہگار لوگ اپنے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی جزا پر خود ہی غور کر لیں کہ وہ کیا ہو گی،اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا رحم نہ فرمایا اور ان کے گناہوں کو نہ بخشا تو انہیں جہنم کے انتہائی دردناک عذابات سہنے پڑیں گے،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حساب کے لئے پیش ہونے سے پہلے پہلے اپنے اعمال کی اصلاح کر لے تاکہ اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اچھی جزا ملے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now