قرآن - 19:60 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

60
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا

Transliteration: (Illaa man taaba wa aamana wa 'amila saalihan fa ulaaa'ika yadkhuloonal jannata wa laa yuzlamoona shai'aa)

ترجمہ: کنزالایمان - اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْــٴًـا(60) || مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا۔ ترجمہ: کنزالعرفان مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک کام کئے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ || مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک کام کئے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 60 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ اِلَّا مَنْ تَابَ:مگر جنہوں  نے توبہ کی۔} ارشاد فرمایا کہ نمازیں  ضائع کرنے اور  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی بجائے گناہوں کو اختیار کرنے والے تو جہنم کی خوفناک وادی غی میں  جائیں  گے مگر جنہوں  نے کفر و شرک اور دیگر گناہوں  سے توبہ کر لی اور کفر کی جگہ ایمان کو اختیار کیا اور اس کے بعد نیک کام کئے تو یہ لوگ جنت میں  داخل ہوں  گے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں  کی جائے گی اور ان کے اعمال کی جزا میں  کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔( روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۶۰، ۵ / ۳۴۵) اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر کے لئے پہلے کفر سے بیزاری کا اظہار کرنا، پھر ایمان لانا اور پھر نیک اعمال کرنا ضروری ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now