Transliteration: (Rabbus samaawaati wal ardi wa maa bainahumaa fa'bud hu wastabir li'ibaadatih; hal ta'lamu lahoo samiyyaa (section 4))
{رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:آسمانوں اور زمین کا رب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا مالک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی ہے، آپ اسی کی عبادت کرتے رہیں اور اس کی عبادت پر ڈٹ جائیں،کیا آپ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہم نام جانتے ہیں ؟ یعنی کسی کو اس کے ساتھ نام کی شرکت بھی نہیں اور اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی باطل معبودکا نام’’ اللّٰہ‘‘ نہیں رکھا ۔
اس آیت ِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اس کی عبادت پر ڈٹ جاؤ، اس سے معلوم ہوا کہ خوشی و غم ہر حال میں ہمیشہ عبادت کرنی چاہیے ۔ یہی حکم ہے اور یہی بارگاہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں محبوب ہے، صرف خوشی یا صرف غم میں عبادت کرنا کمال نہیں ۔ آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ِ ربوبیت بیان کرکے عبادت کا حکم دینے میں اِس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بندے کو پالنا، نعمتیں پہنچانا اور بَتَدریج مرتبۂ کمال تک پہنچانا بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بندے احسان مندی کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 65 تفسیر