Transliteration: (Innal lazeenar taddoo 'alaaa adbaarihim min ba'di maa tabaiyana lahumul hudash Shaitaanu sawwala lahum wa amlaa lahum)
{اِنَّ الَّذِیْنَ
ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ: بیشک وہ لوگ جو اپنے پشت پیچھے پلٹ گئے۔} یعنی جو لوگ ہدایت
کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ایمان سے کفر کی طرف پلٹ گئے انہیں شیطان
نے دھوکہ دیا اور ان کی نظر میں برائیوں کو ایسا مزین کیا
کہ وہ انہیں اچھا سمجھنے لگے اور انہیں دنیا
میں مدتوں رہنے کی امید دلائی کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے ، خوب
دنیا کے مزے اٹھا لو اور ان پر شیطان کا فریب چل گیا ۔
حضرت
قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں اس
آیت میں اہلِ کتاب کے ان کفار کا حال بیان کیا گیا ہے
جنہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو
پہچانا اور آپ کی نعت و صفت اپنی کتاب میں دیکھی ، پھر جاننے پہچاننے
کے باوجود کفر اختیار کیا ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا،
ضَحَّاک اور مُفسِّرسُدِی کا قول ہے کہ ان لوگوں سے مراد منافق
ہیں جو ایمان لا کر کفر کی طرف پھر گئے ۔( خازن، محمد، تحت
الآیۃ: ۲۵، ۴ / ۱۴۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ محمد آیت 25 تفسیر