Transliteration: (Zaalika bi annahum qaaloo lillazeena karihoo maa nazzalal laahu sanutee'ukum fee ba'dil amri wallaahu ya'lamu israarahum)
{ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا: یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے کہا۔} یعنی ایمان سے کفر کی طرف پھر جانا اس لیے ہے کہ منافقوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قرآن اور دین کے احکام کو ناپسند کرنے والے یہودیوں سے پوشیدہ طور پر یہ کہا:بعض کاموں جیسے محمد ِمصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عداوت اور حضور کے خلاف ان کے دشمنوں کی امداد کرنے اور لوگوں کو جہاد سے روکنے میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے ۔انہوں نے یہ بات اگرچہ خفیہ طور پر کہی لیکن اللہ تعالیٰ ان کی چھپی ہوئی ان سب باتوں کو جانتا ہے جو وہ یہودیوں سے کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کی خبر بھی دے دی ہے۔( روح البیان ، محمد ، تحت الآیۃ : ۲۶ ، ۸ / ۵۱۹ ، خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۲۶، ۴ / ۱۴۱، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۱۱۳۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ محمد آیت 26 تفسیر