Transliteration: (Nahnu a'lamu bimaa yaqooloona wa maaa anta 'alaihim bijabbaarin fazakkir bil quraani many yakhaafu wa'eed)
{نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ: ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں
۔} یعنی اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفارِ قریش کا آپ کو
جھٹلانا،قیامت کا انکار کرنا، ہماری قدرت
میں تَرَدُّد کرنا ہم سے چھپا ہوانہیں ہے اور ہم ان سب کو اس کی سزا دیں گے اور آپ ان پر
جبر کرنے والے نہیں کہ انہیں طاقت کے ذریعے اسلام
میں داخل کر دیں بلکہ آپ کی ذمہ داری دعوت دینا اور سمجھا
دینا ہے، لہٰذا آپ قرآنِ مجید کے ذریعے کافروں کو میرے عقاب سے،
غافلوں کو میرے عذاب سے اور اطاعت گزاروں کو میرے عتاب سے
ڈرائیں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ق آیت 45 تفسیر