Transliteration: (Zaalika jazainaahum bimaa kafaroo wa hal nujaazeee illal kafoor)
{ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ: ہم نے انہیں یہ بدلہ
دیا۔} یعنی ہم نے انہیں ان
کی ناشکری اور اُن کے کفر کی وجہ سے یہ بدلہ دیا اور ہم ایسی سزا اسی کو دیتے
ہیں جو نعمتوں کی نا شکری اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے۔( مدارک، سبأ، تحت
الآیۃ: ۱۷،
ص۹۶۰، ملخصاً)
اس
آیت سے معلوم ہوا کہ انسان ناشکر ی کرنے کی وجہ سے خود مصیبت کا شکار ہوتا ہے
،یہی بات ایک اور آیت سے بھی معلوم ہوتی ہے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىٕنَّةً
یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ
اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْ عِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا
یَصْنَعُوْنَ‘‘(نحل:۱۱۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی جو امن و اطمینان والی تھی ہر
طرف سے اس کے پاس اس کا رزق کثرت سے آتا تھا تو وہاں کے
رہنے والے اللہ کی نعمتوں کی
ناشکری کرنے لگے تو اللہ نے ان کے اعمال
کے بدلے میں انہیں بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ
چکھایا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ سبإ آیت 17 تفسیر