قرآن - 34:29 سورہ سبإ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

29
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ

Transliteration: (Wa yaqooloona mataa haazal wa'du in kuntum saadiqeen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(29)قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ(30) || اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔ تم فرماؤ تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو نہ آگے بڑھ سکو۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔ تم فرماؤ: تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکوگے۔ || اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔ تم فرماؤ: تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکوگے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ سبإ آیت 29 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ یَقُوْلُوْنَ: اور کہتے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین اپنی جہالت کی وجہ سے کہتے ہیں  کہ قیامت کا وعدہ کب آئے گا ،اگر تم سچے ہو تو بتاؤ؟اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرمائیں  کہ تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکوگے یعنی اگر تم مہلت چاہو توتاخیر ممکن نہیں  اور اگر جلدی چاہو توپہلے ہونا ممکن نہیں  ،بہر صورت اس وعدے کا اپنے وقت پر پورا ہونا ہے۔(مدارک، سبأ، تحت الآیۃ: ۲۹-۳۰، ص۹۶۳، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now