Transliteration: (Qaalaa qaaa'ilum minhum laa taqtuloo Yoosufa wa alqoohu fee ghayaabatil jubbi yaltaqithu badus sai yaarati in kuntum faa 'ileen)
{قَالَ قَآىٕلٌ مِّنْهُمْ:ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا۔} یعنی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں میں سے یہودا یارُوبیل نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو کیونکہ قتل گناہِ عظیم ہے اور اسے کسی تاریک کنویں میں ڈال دو کہ کوئی مسافر وہاں سے گزرے اور انہیں کسی دوسرے ملک میں لے جائے، اس سے مقصد بھی پورا ہو جائے گا کہ نہ وہ یہاں رہیں گے اور نہ والد صاحب کی نظر عنایت ان پر ہوگی ، لہٰذا اگر تم کچھ کرنے والے ہو تو یہ کرو۔ اس میں اشارہ ہے کہ چاہئے تو یہ کہ کچھ بھی نہ کرو لیکن اگر تم نے ارادہ ہی کرلیا ہے تو بس اتنے ہی پر اکتفا کرو۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴ / ۲۱۹، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳ / ۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 10 تفسیر