Transliteration: (Qaaloo yaaa abaanaa maa laka laa ta'mannaa 'alaa Yoosufa wa innaa lahoo lanaa sihoon)
{قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} اس آیت اورا س سے اگلی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں نے جب آپس میں مشورہ کر لیا اور وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان جدائی کروا دینے پر متفق ہو گئے تو انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا ’’ اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور جب ہم شہر سے باہر صحرا کی طرف جائیں تویوسف کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجتے حالانکہ ہم یقینااس کے خیر خواہ ہیں۔آپ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ وہ تفریح مثلاً شکار اور تیر اندازی وغیرہ کے ذریعے لطف اندوز ہوں ، بیشک ہم اس کی پوری نگہداشت کریں گے ۔ (تفسیرطبری، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷ / ۱۵۵، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ص۵۲۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 11 تفسیر