قرآن - 12:13 سورہ يوسف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

13
قَالَ إِنِّي لَيَحۡزُنُنِيٓ أَن تَذۡهَبُواْ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأۡكُلَهُ ٱلذِّئۡبُ وَأَنتُمۡ عَنۡهُ غَٰفِلُونَ

Transliteration: (Qaala innee la yahzununeee an tazhaboo bihee wa akhaafu any ya'kulahuz zi'bu wa antum 'anhu ghaafiloon)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ(13) || بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ تم اسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے اور تم اس سے بے خبر رہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک تمہارا اسے لے جانا مجھے غمگین کردے گا اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے اور تم اس کی طرف سے بے خبر ہوجاؤ۔ || بیشک تمہارا اسے لے جانا مجھے غمگین کردے گا اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے اور تم اس کی طرف سے بے خبر ہوجاؤ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 13 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالَ:فرمایا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ساتھ بھیجنے کا مطالبہ کیا تو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کے ساتھ نہ بھیجنے کی دو وُجوہات بیان فرمائیں ، ایک یہ کہ  تمہاراحضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو لے جانا اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تمہارے ساتھ چلے جانا مجھے غمگین کر دے گا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کچھ دیر کے لئے بھی ان سے جدا ہونا گوارا نہ تھا۔ دوسری وجہ یہ بیان کی کہ  مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم اپنے کھانے پینے اور کھیل کود میں مصروفیت کی وجہ سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے غافل ہو جاؤ گے اور کوئی بھیڑیا آ کر انہیں کھا جائے گا۔یہ وجہ آپ نے اس لئے بیان فرمائی تھی کہ اس سرزمین میں بھیڑیے اور درندے بہت تھے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳ / ۷)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now