Transliteration: (Hattaaa izas tai'asar Rusulu wa zannooo annahum qad kuziboo jaaa'ahum nas runaa fanujjiya man nashaaa'u wa laa yuraddu ba'sunna 'anil qawmil mujrimeen)
{حَتّٰۤى اِذَا اسْتَایْــٴَـسَ الرُّسُلُ:یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی۔}یعنی لوگوں کو چاہئے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب میں تاخیر ہونے اور عیش و آسائش کے دیر تک رہنے پر مغرور نہ ہوجائیں کیونکہ پہلی اُمتوں کو بھی بہت مہلتیں دی جاچکی ہیں یہاں تک کہ جب اُن کے عذابوں میں بہت تاخیر ہوئی اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے رسولوں کو اپنی قوموں پر دنیا میں ظاہری عذاب آنے کی اُمید نہ رہی تو قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انہیں جو عذاب کے وعدے دیئے تھے وہ پورے ہونے والے نہیں تو اس وقت اچانک انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والوں کے لئے ہماری مدد آگئی اور ہم نے اپنے بندوں میں سے اطاعت کرنے والے ایمانداروں کو بچالیا اور مجرمین اس عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ (ابوسعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳ / ۱۴۲-۱۴۳، مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ص۵۴۸، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 110 تفسیر