Transliteration: (Wattaba'tu millata aabaaa'eee Ibraaheema wa Ishaaqa wa Ya'qoob; maa kaana lanaaa an nushrika billaahi min shai'; zaalikamin fadlil laahi 'alainaa wa 'alan naasi wa laakinna aksaran naasi laa yashkuroon)
{وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْ:اور میں نے اپنے باپ دادا کا دین اختیار کیا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے معجزے کا اظہار فرمانے کے بعدیہ بھی ظاہر فرما دیا کہ آپ خاندانِ نبوت سے ہیں اور آپ کے آباء و اَجداد انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، جن کا بلندمرتبہ دنیا میں مشہور ہے۔ اس سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مقصد یہ تھا کہ سننے والے آپ کی دعوت قبول کریں اور آپ کی ہدایت مانیں اور فرمایا کہ ہمارے لئے ہرگز جائز نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائیں۔ نیز توحید اختیار کرنا اور شرک سے بچنا ہم پر اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے مگر اکثر لوگ اُن نعمتوں پر شکر نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہیں اور ان کی ناشکری یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت بجانہیں لاتے اور مخلوق پَرستی کرتے ہیں۔( تفسیرکبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۸، ۶ / ۴۵۶، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳ / ۲۰-۲۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 38 تفسیر