قرآن - 12:39 سورہ يوسف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

39
يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ ءَأَرۡبَابٞ مُّتَفَرِّقُونَ خَيۡرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ

Transliteration: (Yaa saahibayis sijni 'a-arbaabum mutafarriqoona khayrun amil laahul waahidul qahhaar)

ترجمہ: کنزالایمان - یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُﭤ(39) || اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو کیا جدا جدا رب اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب۔ ترجمہ: کنزالعرفان اے میرے قیدخانے کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب اچھے ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ || اے میرے قیدخانے کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب اچھے ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 39 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ:اے میرے قیدخانے کے دونوں ساتھیو!۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے قید خانے کے ساتھیوں سے فرمایا کہ کیا جدا جدا رب  جیسا کہ بت پرستوں نے بنا رکھے ہیں کہ کوئی سونے کا ، کوئی چاندی کا ، کوئی تانبے کا ، کوئی لوہے کا ، کوئی لکڑی کا ، کوئی پتھر کا، کوئی اور کسی چیز کا، کوئی چھوٹا کوئی بڑا، مگر سب کے سب نکمے بے کار، نہ نفع دے سکیں نہ ضرر پہنچاسکیں ، ایسے جھوٹے معبود  اچھے ہیں یا ایک اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب ہے کہ نہ کوئی اس کا مقابل ہوسکتا ہے نہ اس کے حکم میں دخل دے سکتا ہے ، نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ نظیر، سب پر اس کا حکم جاری اور سب اس کی ملک میں ہیں۔( خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۲۱، ملخصاً)

تبلیغ میں الفاظ نرم اور دلائل مضبوط استعمال کرنے چاہئیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ تبلیغ میں الفاظ نرم اور دلائل قوی استعمال کرنے چاہئیں جیسے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نرم الفاظ کے ساتھ ان دو افراد کو اسلام قبول کرنے کی طرف مائل کیا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now