Transliteration: (Fa yazaruhaa qaa'an safsafaa)
{وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ:اور آپ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن پہاڑوں کا کیا حال ہوگا؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ، اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ آپ ان سے فرما دیں کہ انہیں میرا رب عَزَّوَجَلَّ ریت کے ذروں کی طرح ریزہ ریزہ کر دے گا پھر انہیں ہواؤں کے ذریعے اڑا دے گا اور پہاڑوں کے مقامات کی زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا چھوڑے گا اور زمین اس طرح ہموار کر دی جائے گی کہ تو اس میں کوئی پستی اور اونچائی نہ دیکھے گا۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۵-۱۰۷، ۳ / ۲۶۳-۲۶۴، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۵-۱۰۷، ص۲۶۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 106 تفسیر