Transliteration: (Yawma iziny yattabi'oonad daa'iya laa 'iwaja lahoo wa khasha'atil aswaatu lir Rahmaani falaa tasma'u illaa hamsaa)
{یَوْمَىٕذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ:اس دن پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے ۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دئیے جائیں گے اس دن لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جو انہیں قیامت کے دن مَوقِف کی طرف بلا ئے گا اور ندا کرے گا: رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کے حضور پیش ہونے کے لئے چلو ، اور یہ پکارنے والے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے ۔ لوگ اس بات پر قادر نہ ہو ں گے کہ وہ دائیں بائیں مڑ جائیں اور اس کے پیچھے نہ چلیں بلکہ وہ سب تیزی سے پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس دن سب آوازیں رحمٰن کے حضو ر ہیبت و جلال کی وجہ سے پَست ہوکر رہ جائیں گی اور حال یہ ہو گا کہ تو ہلکی سی آواز کے سوا کچھ نہ سنے گا۔ اس کی کیفیت کے بارے حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا ’’وہ ہلکی سی آواز ایسی ہو گی کہ اس میں صرف لبوں کی جنبش ہوگی۔( روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۵ / ۴۲۸، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۳ / ۲۶۴، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ص۲۶۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 108 تفسیر