قرآن - 20:110 سورہ طه ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

110
يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِۦ عِلۡمٗا

Transliteration: (Ya'lamu maa bainaa aideehim wa maa khalfahum wa laa yuheetoona bihee 'ilmaa)

ترجمہ: کنزالایمان - یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا(110) || وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا ۔ ترجمہ: کنزالعرفان وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگوں کا علم اسے نہیں گھیر سکتا۔ || وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگوں کا علم اسے نہیں گھیر سکتا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 110 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ:وہ جانتا ہے جو کچھ ان لوگوں  کے آگے ہے ۔} یعنی  اللہ تعالیٰ کا علم بندوں  کی ذات و صفات، ان کے گزشتہ اور آئندہ کے تمام اَحوال اور دنیا و آخرت کے جملہ اُمور کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے ۔

{وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا:اور لوگوں کا علم اسے نہیں  گھیر سکتا ۔} یعنی پوری کائنات کا علم  اللہ تعالیٰ کی ذات کا احاطہ نہیں  کر سکتا ، اس کی ذات کا اِدراک کائنات کے علوم کی رسائی سے برتر ہے ، وہ اپنے اَسماء و صفات ، آثارِ قدرت اور حکمت کی صورتوں  سے پہچانا جاتا ہے ۔ فارسی کا ایک شعر ہے:

کجا دریابد او را عقلِ چالاک

 کہ اوبالا تر است ازحدِ ادراک

نظر کن اندر اسماء وصفاتَش

 کہ واقف نیست کس از کنہِ ذاتَش

            یعنی تیز عقل ا س کی ذات کا ادراک کس طرح کر سکتی ہے کیونکہ وہ تو فہم و ادراک کی حد سے ہی بالا تر ہے، لہٰذا تم اس کے اسماء و صفات میں  غورو فکر کرو کہ اس کی ذات کی حقیقت سے کوئی واقف ہی نہیں ۔

            بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں  کہ مخلوق کے علوم  اللہ تعالیٰ کی معلومات کا احاطہ نہیں  کر سکتے۔( روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۵ / ۴۳۰، ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۳ / ۴۹۲، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now