قرآن - 20:111 سورہ طه ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

111
۞وَعَنَتِ ٱلۡوُجُوهُ لِلۡحَيِّ ٱلۡقَيُّومِۖ وَقَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمٗا

Transliteration: (Wa 'anatil wujoohu lil Haiiyil Qaiyoomi wa qad khaaba man hamala zulmaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِؕ-وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا(111) || اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور تمام چہرے اُس کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ || اور تمام چہرے اُس کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 111 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ:اور تمام چہرے جھک جائیں  گے ۔} ارشاد فرمایا کہ حشر کے دن تمام چہرے اس خدا کے حضور جھک جائیں  گے جو خود زندہ ، دوسروں  کوقائم رکھنے والا ہے اور ہر ایک شانِ عجز و نیاز کے ساتھ حاضر ہو گا ، کسی میں  سرکشی نہ رہے گی اور  اللہ تعالیٰ کے قہر و حکومت کا کامل ظہور ہو گا اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ یہاں  ظلم سے مراد شرک ہے اور بے شک شرک شدید ترین ظلم ہے اور جو اس ظلم کے بوجھ تلے دبے ہوئے مَوقِفِ قیامت میں  آئے گا تو اس سے بڑھ کر نامراد کون ہے۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۱،۳ / ۲۶۴، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۷۰۳-۷۰۴، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now