قرآن - 20:113 سورہ طه ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

113
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا وَصَرَّفۡنَا فِيهِ مِنَ ٱلۡوَعِيدِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ أَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرٗا

ترجمہ: کنزالایمان - وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا(113) || اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دئیے کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن نازل فرمایا اور اس میں مختلف انداز سے عذاب کی وعیدیں بیان کیں تاکہ لوگ ڈریں یا قرآن ان کے دل میں کچھ غور وفکر پیدا کرے۔ || اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن نازل فرمایا اور اس میں مختلف انداز سے عذاب کی وعیدیں بیان کیں تاکہ لوگ ڈریں یا قرآن ان کے دل میں کچھ غور وفکر پیدا کرے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 113 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ كَذٰلِكَ:اور یونہی۔} اس آیت میں  قرآنِ مجید کی دو صفات بیان کی گئیں  (1) قرآن کریم کو عربی زبان میں  نازل کیا گیا، تاکہ اہلِ عرب اسے سمجھ سکیں  اور وہ اس بات سے واقف ہوجائیں  کہ قرآن پاک کی نظم عاجز کر دینے والی ہے اور یہ کسی انسان کا کلام نہیں ۔ (2) قرآنِ مجیدمیں  مختلف انداز سے فرائض چھوڑنے اور ممنوعات کا اِرتکاب کرنے پر عذاب کی وَعِیدیں  بیان کی گئیں  تاکہ لوگ ڈریں  اور قرآن عظیم ان کے دل میں  کچھ نصیحت اور غوروفکر پیدا کرے جس سے انہیں  نیکیوں  کی رغبت اور بدیوں  سے نفرت ہو اور وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں ۔( تفسیرکبیر، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۸ / ۱۰۳، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۳ / ۲۶۴-۲۶۵، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now