Transliteration: (Wa qaaloo law laa ya'teenaa bi aayatin mir Rabbih; awa lam ta'tihim baiyinatu maa fis suhufil oolaa)
{وَ قَالُوْا:اور کافر وں نے کہا۔} کثیر نشانیاں آ جانے اور معجزات کا مُتَواتِر ظہور ہو نے کے باوجودکفار ان سب سے اندھے بنے اور انہوں نے حضورپُرنورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نسبت یہ کہہ دیا کہ آپ اپنے ربّ کے پاس سے کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں لاتے جو آپ کی نبوت صحیح ہونے پر دلالت کرے ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ کیا ان لوگوں کے پاس پہلی کتابوں میں مذکور قرآن اور دو عالَم کے سردارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بشارت اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و بِعثت کا ذکر نہ آیا، یہ کیسی عظیم ترین نشانیاں ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی کو طلب کرنے کا کیا موقع ہے۔( ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۳، ۳ / ۵۰۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 133 تفسیر