قرآن - 20:133 سورہ طه ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

133
وَقَالُواْ لَوۡلَا يَأۡتِينَا بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّهِۦٓۚ أَوَلَمۡ تَأۡتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ

Transliteration: (Wa qaaloo law laa ya'teenaa bi aayatin mir Rabbih; awa lam ta'tihim baiyinatu maa fis suhufil oolaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى(133) || اور کافر بولے یہ اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے اور کیا انھیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور کافر وں نے کہا: یہ نبی اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ اور کیا ان لوگوں کے پاس پہلی کتابوں میں مذکور بیان نہ آیا۔ || اور کافر وں نے کہا: یہ نبی اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ اور کیا ان لوگوں کے پاس پہلی کتابوں میں مذکور بیان نہ آیا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 133 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ قَالُوْا:اور کافر وں  نے کہا۔} کثیر نشانیاں  آ جانے اور معجزات کا مُتَواتِر ظہور ہو نے کے باوجودکفار ان سب سے اندھے بنے اور انہوں  نے حضورپُرنورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نسبت یہ کہہ دیا کہ آپ اپنے ربّ کے پاس سے کوئی ایسی نشانی کیوں  نہیں  لاتے جو آپ کی نبوت صحیح ہونے پر دلالت کرے ، اس کے جواب میں   اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ کیا ان لوگوں  کے پاس پہلی کتابوں  میں  مذکور قرآن اور دو عالَم کے سردارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بشارت اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و بِعثت کا ذکر نہ آیا، یہ کیسی عظیم ترین نشانیاں  ہیں  اور ان کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی کو طلب کرنے کا کیا موقع ہے۔( ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۳، ۳ / ۵۰۰)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now