Transliteration: (Wa law annaaa ahlaknaahum bi 'azaabin min qablihee laqaaloo Rabbanaa law laaa arsalta ilainaa Rasoolan fanattabi'a Aayaatika min qabli an nazilla wa nakhzaa)
{وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ:اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر ہم نبی کو بھیجے بغیر کفار پر عذاب بھیج دیتے توقیامت کے دن یہ لوگ شکایت کرتے کہ ہم میں کوئی رسول توبھیجا ہوتا پھر اگر ہم اس کی اطاعت نہ کرتے تو عذاب کے مستحق ہوتے ۔اب انہیں اس شکایت کا بھی موقعہ نہیں کیونکہ اب سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لاچکے ہیں ۔
{ قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا:تم فرماؤ:ہر کوئی انتظار کررہا ہے تو تم بھی انتظار کرو ۔}شانِ نزول:مشرکین نے کہا تھا کہ ہم زمانے کے حوادِث اور انقلاب کا انتظار کرتے ہیں کہ کب مسلمانوں پر آئیں اور ان کا قصہ تمام ہو ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ تم مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا انتظار کر رہے ہو اورمسلمان تمہارے عقوبت و عذاب کا انتظار کر رہے ہیں ۔عنقریب جب خدا کا حکم آئے گا اور قیامت قائم ہو گی تو تم جان لوگے کہ سیدھے راستے والے کون تھے اور کس نے ہدایت پائی؟( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۵، ۳ / ۲۷۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 134 تفسیر