قرآن - 20:16 سورہ طه ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

16
فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنۡهَا مَن لَّا يُؤۡمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرۡدَىٰ

Transliteration: (Falaa yasuddannaka 'anhaa mal laa yu'minu bihaa wattaba'a hawaahu fatardaa)

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى(16) || تو ہرگز تجھے اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلا پھر تو ہلاک ہوجائے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو قیامت پر ایمان نہ لانے والا اور اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہرگز تجھے اس کے ماننے سے باز نہ رکھے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا۔ || تو قیامت پر ایمان نہ لانے والا اور اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہرگز تجھے اس کے ماننے سے باز نہ رکھے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 16 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا:تو قیامت پر ایمان نہ لانے والا ہرگز تجھے اس کے ماننے سے باز نہ رکھے ۔} یہاں  آیت میں  خطاب بظاہر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ہے اور اس سے مراد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اُمت ہے۔ چنانچہ گویا  کہ ارشاد فرمایا :اے میرے کلیم موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے امتی! قیامت پر ایمان نہ لانے والا اور  اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں  اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہرگز تجھے قیامت کو ماننے سے باز نہ رکھے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۶۸۸)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now