قرآن - 10:36 سورہ يونس ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

36
وَمَا يَتَّبِعُ أَكۡثَرُهُمۡ إِلَّا ظَنًّاۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا يَفۡعَلُونَ

Transliteration: (Wa maa yattabi'u aksaruhum illaa zannaa; innaz zanna laa yughnee minal haqqi shai'aa; innal laaha 'Aleemun bimaa yaf'aloon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَا یَتَّبِـعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّاؕ-اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ(36) || اور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ان کی اکثریت تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے ۔بیشک گمان حق کاکوئی فائدہ نہیں دیتا۔ بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔ || اور ان کی اکثریت تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے ۔بیشک گمان حق کاکوئی فائدہ نہیں دیتا۔ بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 36 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَا یَتَّبِـعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا:اور ان کی اکثریت تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے ۔} یعنی ان مشرکین کی اکثریت بتوں کو معبود اور انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنا شفیع ماننے میں تو صرف وہم وگمان پر چلتی ہے جس کی ان کے پاس نہ تو کوئی دلیل ہے اورنہ اس کے صحیح ہونے کا یقین ہے بلکہ یہ صرف شک میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ بھی بت پرستی کرتے تھے اور انہوں نے کچھ سمجھ کر ہی بت پرستی کی ہوگی۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۶، ۲ / ۳۱۵، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۴۷۳، ملتقطاً)

            آیت میں ’’اکثر ‘‘فرمایا گیا ، اس سے معلوم ہوا کہ بعض بت پرست وہ بھی تھے جو جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال سے مُتَِّصف ہے لیکن وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے کفر کرتے تھے۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۸۶۹)

{اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْــٴًـا:بیشک گمان حق کا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔} اس آیت میں ظن سے مراد وہ گمان ہے جو خلافِ تحقیق ہو، اس میں شک اور وہم بھی داخل ہیں اور یہ کلام کفار کے بارے میں ہے جنہوں نے کفر اِختیار کرنے میں اپنے آباؤ اَجداد کی پیروی اور تقلید کی۔ اس تقلید پر دنیا و آخرت میں ان کا کوئی عذر مقبول نہیں البتہ خالص مومن جس کا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل قائم کرنے سے عاجز ہے ، وہ اگر کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل قائم کر تا ہے تو وہ اس آیت کا مِصداق نہیں بلکہ وہ یقینی طور پر مومن ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ گمان نہیں بلکہ یقین ہے جو کہ واقع کے مطابق ہے۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۸۶۹)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now