Transliteration: ('Am yaqooloonaf taraahu qul fa'too bi sooratin mislihee wad'oo manis tata'tum min doonil laahi in kuntum saadiqeen)
{اَمْ یَقُوْلُوْنَ:کیا وہ یہ کہتے ہیں۔} یہاں کافروں کی اسی بات کا جواب دیا گیا ہے کہ کیا کفار یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قرآن خود ہی بنالیا ہے اور یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام نہیں ؟ا ے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم ان سے فرما دو کہ اگر تمہارا یہی خیال ہے تو تم بھی عربی ہو، فصاحت و بلاغت کے دعویدار ہو، دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے کلام کے مقابل کلام بنانے کو تم ناممکن سمجھتے ہو، لہٰذا اگر تمہارے گمان میں یہ انسانی کلام ہے تو تم بھی اس جیسی کوئی ایک سورت لے آؤ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا جو تمہیں مل سکیں سب کو بلا لاؤ اور ان سے مدد یں لو اور سب مل کر قرآن جیسی ایک سورت تو بنا کر دکھاؤ۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۸، ۲ / ۳۱۶، ملخصاً) قرآنِ مجید کا یہ چیلنج چودہ سوسال سے زائد عرصے سے چلا آرہا ہے لیکن آج تک کوئی کافر اس کا جواب نہیں دے سکا اور اگر کسی نے جواب دینے کی کوشش بھی کی ہے تو قرآنِ کریم کے مقابلے میں اس کی حیثیت ناچیز ذرے سے بھی کم ثابت ہوئی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 38 تفسیر