Transliteration: (Min Fir'awn; innahoo kaana 'aaliyam minal musrifeen)
{وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو نجات بخشی۔} اس سے پہلی آیات میں فرعون کی ہلاکت کی کیفیت بیان کی گئی اور ان آیات میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم پر کئے گئے احسانات کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے بنی اسرائیل کو اس رُسو اکُن عذاب سے نجات بخشی جو انہیں فرعون کی طرف سے غلامی ،مشقّت سے بھرپور خدمتوں ، محنتوں اور اولاد کے قتل کئے جانے کی صورت میں پہنچتا تھا۔ بیشک فرعون متکبر اورحد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔(تفسیرکبیر، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱، ۹ / ۶۶۱، ، روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱، ۸ / ۴۱۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الدخان آیت 31 تفسیر