قرآن - 44:32 سورہ الدخان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

32
وَلَقَدِ ٱخۡتَرۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ عِلۡمٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ

Transliteration: (Wa laqadikh tarnaahum 'alaa 'ilmin 'alal 'aalameen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(32)وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ(33) || اور بیشک ہم نے اُنہیں دانستہ چن لیا اس زمانہ والوں سے۔ اورہم نے اُنہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں صریح انعام تھا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک ہم نے انہیں جانتے ہوئے اس زمانے والوں پر چن لیا۔ اورہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں واضح انعام تھا۔ || اور بیشک ہم نے انہیں جانتے ہوئے اس زمانے والوں پر چن لیا۔ اورہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں واضح انعام تھا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الدخان آیت 32 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ: اور بیشک ہم نے انہیں  جانتے ہوئے چن لیا۔} ارشاد فرمایا کہ(بنی اسرائیل پر ہم نے ایک احسان یہ کیا کہ) ہم نے اپنے علم کی بنا پر بنی اسرائیل کو اس زمانے میں  تمام جہان والوں  پر چُن لیا۔( مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۱۱۱۲)

            یاد رہے کہ اس آیت سے یہ لازم نہیں  آتا کہ بنی اسرائیل حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت سے بھی افضل ہیں  کیونکہ بنی اسرائیل کا افضل ہونااپنے زمانے کے اعتبار سے ہے۔

{وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ: اورہم نے انہیں  نشانیاں  عطا فرمائیں ۔} ارشاد فرمایا کہ (بنی اسرائیل پر ہم نے ایک احسان یہ کیا کہ) ہم نے انہیں  وہ نشانیاں  عطا فرمائیں  جن میں  واضح انعام تھا جیسے ان کے لئے دریا میں  خشک راستے بنائے، بادل کو سائبان کیا، مَنّ و سَلویٰ اتارا اوراس کے علاوہ اور نعمتیں  دیں ۔( خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴ / ۱۱۵)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now