قرآن - 46:25 سورہ الأحقاف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

25
تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءِۭ بِأَمۡرِ رَبِّهَا فَأَصۡبَحُواْ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَٰكِنُهُمۡۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ

Transliteration: (Tudammiru kulla shai'im bi-amri Rabbihaa fa asbahoo laa yuraaa illaa masaakinuhum; kazaalika najzil qawmal mujrimeen)

ترجمہ: کنزالایمان - تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ(25) || ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو۔ ترجمہ: کنزالعرفان یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے تو صبح کو ان کی ایسی حالت تھی کہ ان کے خالی مکان ہی نظر آرہے تھے۔ ہم مجرموں کوایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔ || یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے تو صبح کو ان کی ایسی حالت تھی کہ ان کے خالی مکان ہی نظر آرہے تھے۔ ہم مجرموں کوایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 25 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا: اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے۔} یعنی اس آندھی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے ،چنانچہ اس آندھی کے عذاب نے قومِ عادکے مَردوں  ، عورتوں ، چھوٹوں  ، بڑوں  سب کو ہلاک کردیا ، ان کے اَموال آسمان وز مین کے درمیان اُڑتے پھرتے تھے اور ان کی چیزیں  پارہ پارہ ہوگئیں  اور صبح کے وقت ایسی حالت تھی کہ وہاں  ان کے خالی مکان ہی نظر آرہے تھے۔آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایا کہ ہم مجرموں  کوایسی ہی سزا دیتے ہیں  جیسی ہم نے قومِ عاد کو دی،اس لئے کفارِ مکہ کو بھی اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے کفر و عناد پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ ان پر بھی قومِ عاد جیسی آندھی بھیج سکتا ہے۔( جلالین، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۴۱۸، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۵، ۸ / ۴۸۲-۴۸۳، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now