Transliteration: (Tudammiru kulla shai'im bi-amri Rabbihaa fa asbahoo laa yuraaa illaa masaakinuhum; kazaalika najzil qawmal mujrimeen)
{تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا: اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے۔} یعنی اس آندھی کا حال یہ
ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر
دیتی ہے ،چنانچہ اس آندھی کے عذاب نے قومِ عادکے مَردوں ، عورتوں ، چھوٹوں ، بڑوں سب کو ہلاک کردیا ، ان کے اَموال
آسمان وز مین کے درمیان اُڑتے پھرتے تھے اور ان کی چیزیں پارہ پارہ
ہوگئیں اور صبح کے وقت ایسی حالت تھی کہ وہاں ان کے خالی
مکان ہی نظر آرہے تھے۔آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ ہم
مجرموں کوایسی ہی سزا دیتے ہیں جیسی ہم نے قومِ عاد کو
دی،اس لئے کفارِ مکہ کو بھی اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے کفر و عناد پر
قائم رہے تو اللہ تعالیٰ ان پر بھی قومِ
عاد جیسی آندھی بھیج سکتا ہے۔( جلالین، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۴۱۸، روح البیان، الاحقاف، تحت
الآیۃ: ۲۵، ۸ / ۴۸۲-۴۸۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 25 تفسیر