قرآن - 46:26 سورہ الأحقاف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

26
وَلَقَدۡ مَكَّنَّـٰهُمۡ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّـٰكُمۡ فِيهِ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعٗا وَأَبۡصَٰرٗا وَأَفۡـِٔدَةٗ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَآ أَبۡصَٰرُهُمۡ وَلَآ أَفۡـِٔدَتُهُم مِّن شَيۡءٍ إِذۡ كَانُواْ يَجۡحَدُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ

Transliteration: (Wa laqad makkannaahum feemaaa im makkannaakum feehi waj'alnaa lahum sam'anw wa absaaranw wa af'idatan famaaa aghnaa 'anhum sam'uhum wa laaa absaaruhum wa laaa af'idatuhum min shai'in iz kaanoo yajhadoona bi Aayaatil laahi wa haaqa bihim maa kaanoo bihee yastahzi'oon (section 3))

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـٕدَةً ﳲ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْـٕدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَۙ-بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(26) || اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیئے تھے جو تم کو نہ دیئے اور اُن کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے تو ان کے کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک ہم نے ان کو ان چیزوں میں قدرت دی تھی جن میں (اے اہلِ مکہ) تمہیں قدرت نہیں دی اور ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے دل ان کے کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اورانہیں اس عذاب نے گھیرلیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ || اور بیشک ہم نے ان کو ان چیزوں میں قدرت دی تھی جن میں (اے اہلِ مکہ) تمہیں قدرت نہیں دی اور ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے دل ان کے کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اورانہیں اس عذاب نے گھیرلیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 26 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ: اور بیشک ہم نے ان کو ان چیزوں  میں  قدرت دی تھی جن میں  تمہیں  قدرت نہیں  دی۔} کفار ِ مکہ کو عذاب سے ڈرانے کے بعدیہاں  سے قومِ عاد کی ان پر برتری بیان کر کے انہیں  نصیحت کی جا رہی ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایاگیا: اے اہلِ مکہ ! بیشک ہم نے قومِ عاد کو ان چیزوں  میں  قدرت دی تھی جن میں  تمہیں  قدرت نہیں  دی،جیسے وہ جسمانی قوت ، مال کی کثرت اور عمر لمبی ہونے میں  تم سے زیادہ تھے، لیکن اس قوت کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہ پا سکے تو پھر غور کرو کہ تمہارا کیا حال ہو گا؟مزید یہ کہ ہم نے قومِ عاد پر نعمتوں  کے دروازے کھولے ، انہیں  کان ،آنکھیں  اور دل عطا کئے تاکہ وہ ان اَعضا ء کو دین کے کام میں  لائیں  مگر انہوں  نے ان خداداد نعمتوں  سے دین کا کام ہی نہیں  لیا بلکہ ان کے ذریعے صرف دنیا اور ا س کی لذّتیں  طلب کرنے میں  لگے رہے، تو ان کے کان ، ان کی آنکھیں  اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے میں  ان کے کچھ کام نہ آئے اور وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں  کا انکار کرتے تھے اس لئے انہیں  اس عذاب نے گھیرلیا جس کے جلد نازل ہونے کامطالبہ کر کے وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے،تو اے اہلِ مکہ! جب قومِ عاد نے اپنی دنیا پر غرور کیا اور حجت و دلیل کو قبول کرنے سے اِعراض کیا توان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گیا اور ان کی قوت و کثرت ان کے کچھ کام نہ آئی اور تم تو ان کے مقابلے میں  کمزور اور عاجز ہو اس لئے تمہیں  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔(خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۶، ۴ / ۱۲۸-۱۲۹، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۶، ۸ / ۴۸۳-۴۸۴، تفسیر کبیر، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱۰ / ۲۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now