Transliteration: (Summa laa yamootu feehaa wa laa yahyaa )
{سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰى: عنقریب وہ نصیحت مانے گاجو ڈرتا ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، عنقریب آپ کی نصیحت وہ مانے گا جو اللّٰہ تعالیٰ سے اور اپنے برے انجام سے ڈرتا ہے اور آپ کی نصیحت سے وہ دور ہو گااور اس نصیحت کو قبول نہیں کرے گا جو آپ کا دشمن بن کر بڑا بدبخت کافر ہے ،جیسے ولید بن مغیرہ اور ابو جہل وغیرہ اور وہ بد بخت کافر جہنم کی سب سے بڑی آگ میں جائے گا ،پھروہ نہ اس میں مرے گا کہ مر کر ہی عذاب سے چھوٹ سکے اور نہ ایسا جینا جئے گا جس سے کچھ بھی آرام پاسکے۔( مدارک،الاعلی،تحت الآیۃ:۱۰-۱۳،ص۱۳۴۱، روح البیان،الاعلی،تحت الآیۃ:۱۰-۱۳،۱۰ / ۴۰۸-۴۰۹،ملتقطاً)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص نصیحت کو تسلیم کرتا ہے وہ خَشیَت ِ الٰہی کے زیور سے آراستہ ہے ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الاعلى آیت 13 تفسیر