قرآن - 21:19 سورہ الأنبياء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

19
وَلَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَنۡ عِندَهُۥ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُونَ

Transliteration: (Wa lahoo man fis samaawaati wal ard; wa man 'indahoo laa yastakbiroona 'an 'ibaada tihee wa laa yastahsiroon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَ(19) || اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اور اس کے پاس والے اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کی ملک ہیں اورجو اللہ کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں ۔ || اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کی ملک ہیں اورجو اللہ کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 19 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:اور جوآسمانوں  اور زمین میں  ہیں  سب اسی کی مِلک ہیں ۔}ارشاد فرمایا کہ آسمانوں  اور زمین کی تمام مخلوقات کا مالک  اللہ تعالیٰ ہے اور سب اس کی ملک ہیں  تو کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے ! ملکیت ہونے اور اولاد ہونے میں  مُنافات ہے اور مقرب فرشتے جنہیں   اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس کی بارگاہ میں  قرب و منزلت کا ایک خاص مقام حاصل ہے وہ اس کی عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں  اور نہ ہی عبادت کرنے سے تھکتے ہیں۔(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۹،ص۷۱۲)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now