Transliteration: (Amit takhazooo aalihatam minal ardi hum yunshiroon)
{اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ:کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے معبود بنالئے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کافروں نے زمین کے جواہر اور معدنیات جیسے سونے چاندی اور پتھر وغیرہ سے کچھ ایسے معبود بنالئے ہیں جو مُردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ایسا تو نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ جو خو دبے جان ہو وہ کسی کو جان دے سکے، تو پھر ان چیزوں کو معبود ٹھہرانا اور اِلٰہ قرار دینا کتنا کھلا باطل ہے ۔ معبود وہی ہے جو ہر شے پر قادر ہو اور جو زندگی موت دینے اورنفع نقصان پہنچانے پر ہی قادر نہیں تو اسے معبود بنانے کو کون سی عقل جائز قرار دے سکتی ہے۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۷۱۲-۷۱۳، تفسیر کبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۱، ۸ / ۱۲۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 21 تفسیر