Transliteration: (Wa maaa arsalnaa min qablika mir Rasoolin illaa nooheee ilaihi annahoo laaa ilaaha illaaa Ana fa'budoon)
{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا:اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،ہم نے آپ سے پہلے جس امت کی طرف کوئی رسول اور نبی بھیجا ،ہم اس کی طرف وحی فرماتےرہے کہ زمین و آسمان میں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو عبادت کئے جانے کامستحق ہو، تو اخلاص کے ساتھ میری عبادت کرو اور صرف مجھے ہی معبود مانو۔(تفسیر طبری، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۹ / ۱۶)
آیت ’’وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہو ئیں
(1)…ہر نبی عَلَیْہِ السَّلَام پر وحی آتی تھی۔ نبوت کے لئے وحی لازم و ضروری ہے۔
(2)… تمام اَنبیاء اور رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مبعوث فرمانے کی بنیادی حکمت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ثابت کرنا اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔
(3)…تمام اَنبیاء اور رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عقائد میں متفق ہیں ،اعمال میں فرق ہے۔کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے دین میں شرک جائز نہیں ہوا ، لہٰذا سجدہِ تعظیمی شرک نہیں کیونکہ بعض انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں یہ ہوا ہے البتہ ہماری شریعت میں حرام ضرور ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 25 تفسیر