قرآن - 21:26 سورہ الأنبياء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

26
وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۚ بَلۡ عِبَادٞ مُّكۡرَمُونَ

Transliteration: (Wa qaalut takhazar Rahmaanu waladaa; Subhaanahu bal 'ibaadum mukramoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗؕ-بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ(26)لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ(27) || اور بولے رحمٰن نے بیٹا اختیار کیا پاک ہے وہ بلکہ بندے ہیں عزت والے ۔ بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور کافروں نے کہا: رحمٰن نے اولاد بنالی ہے۔وہ پاک ہے، بلکہ (فرشتے)عزت والے بندے ہیں۔ وہ کسی بات میں اللہ سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ۔ || اور کافروں نے کہا: رحمٰن نے اولاد بنالی ہے۔وہ پاک ہے، بلکہ (فرشتے)عزت والے بندے ہیں۔ وہ کسی بات میں اللہ سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 26 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ قَالُوا:اور کافروں  نے کہا۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہ آیت خزاعہ قبیلے کے بارے میں  نازِل ہوئی جنہوں  نے فرشتوں  کو خدا کی بیٹیاں  کہا تھا ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کافر فرشتوں  کو  اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہیں  جبکہ  اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ فرشتے  اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں  بلکہ وہ اس کے برگزیدہ اور مکرم بندے ہیں،وہ کسی بات میں   اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں  کرتے،صرف وہی بات کرتے ہیں  جس کا  اللہ تعالیٰ انہیں  حکم دیتا ہے اور وہ کسی اعتبار سے  اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت نہیں  کرتے بلکہ اس کے ہر حکم پر عمل کرتے ہیں۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۳ / ۲۷۵)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now