قرآن - 21:45 سورہ الأنبياء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

45
قُلۡ إِنَّمَآ أُنذِرُكُم بِٱلۡوَحۡيِۚ وَلَا يَسۡمَعُ ٱلصُّمُّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ

Transliteration: (Qul innamaaa unzirukum bilwahyi; wa laa yasma'us summud du'aaa 'a izaa maa yunzaroon)

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ ﳲ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ(45) || تم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ: میں تم کو صرف وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں اور بہرے پکار کو نہیں سنتے جب انہیں ڈرایا جائے۔ || تم فرماؤ: میں تم کو صرف وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں اور بہرے پکار کو نہیں سنتے جب انہیں ڈرایا جائے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 45 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں  سے فرما دیں  کہ میرا کام یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں  میری طرف جو وحی کی جاتی ہے اِس کے ذریعے میں  تمہیں  اُس عذاب سے ڈراؤں  جس کے آنے کی تم جلدی مچا رہے ہو، عذاب کولانا میرا کام نہیں ۔ آیت کے آخر میں  کافروں  کے متعلق فرمایا کہ جیسے بہروں  کو کسی خطرے میں  آواز دی جائے تو انہیں  یہ آواز فائدہ نہیں  دیتی کیونکہ ان میں  کسی کی آواز سے نفع اٹھانے کی صلاحیت نہیں  ہے اسی طرح کفار کی حالت ہے کہ انہیں  عذاب کی وَعِیدیں  فائدہ نہیں  دیتیں  کیونکہ انہوں  نے ہدایت کی بات سننے سے خود کو بہرا کیا ہوا ہے۔

آیت’’قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔

(1)… پیغمبر پر احکام سنا دینا لازم ہے، دل میں  اتارنا لازم نہیں  کہ یہ خدا کا کام ہے۔

(2)… جو وعظ سے نفع حاصل نہ کرے، وہ بہرا ہے یعنی دل کا بہرا ہے، اگرچہ بظاہر اس میں  سننے کی قوت موجود ہو۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now