Transliteration: (Maaa aaamanat qablahum min qaryatin ahlaknaahaa a-fahum yu'minoon)
{مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ:ان سے پہلے جو بستی ایمان نہ لائی۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی باتوں کا رد فرمایا اور انہیں جواب دیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کفارِ مکہ سے پہلے لوگوں نے بھی اپنے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نشانیوں کا مطالبہ کیا اور نشانیاں آنے کی صورت میں ایمان لانے کا عہد کیا اور جب ان کے پاس وہ مطلوبہ نشانیاں آئیں تو وہ ان انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان نہ لائے اوران کی تکذیب کرنے لگے اور اس سبب سے ان کفار کو ہلاک کر دیا گیا تو کیا یہ کفارِ مکہ نشانی دیکھ کر ایمان لے آئیں گے ؟حالانکہ اِن کی سرکشی اُن سے بڑھی ہوئی ہے۔(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۶،ص۷۰۹)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 6 تفسیر