Transliteration: (Fastajabnaa lahoo wa wahabnaa lahoo Yahyaa Wa aslahnaa lahoo zawjah; innahum kaanoo yusaari'oona fil khairaati wa yad'oonanaa raghabanw wa rahabaa; wa kaanoo lanaa khaashi'een)
{فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ:تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول کی اور
انہیں سعادت مند فرزند حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عطا فرمایا اورحضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے آپ کی زوجہ
کا بانجھ پن ختم کر کے اسے اولاد پیدا کرنے کے قابل بنا دیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۰، ص۷۲۵)
{اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ:بیشک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے
تھے۔} یعنی
جن انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر ہوا ان کی دعائیں اس وجہ سے
قبول ہوئیں کہ وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر سے پکارتے تھے
اور اللہ تعالیٰ کے حضور دل سے
جھکنے والے تھے۔(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۹۰، ص۷۲۵)
دعائیں قبول
ہونے والا بننے کے لئے تین کام کئے جائیں :
اس
سے بخوبی معلوم ہوا کہ جو شخص ایسا ہونا چاہے کہ اس کی ہر دعا مقبول ہو ،اسے چاہئے
کہ وہ یہ تین کام کرے (1) نیک کام کرنے میں دیر نہ
لگائے۔ (2) امید اور خوف کے درمیان رہتے ہوئے ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگے۔ (3) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اور
اِنکساری کا اظہار کرے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 90 تفسیر