قرآن - 2:206 سورہ البقرہ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

206
وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتۡهُ ٱلۡعِزَّةُ بِٱلۡإِثۡمِۚ فَحَسۡبُهُۥ جَهَنَّمُۖ وَلَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ

Transliteration: (Wa izaa qeela lahuttaqil laaha akhazathul izzatu bil-ism; fahasbuhoo jahannam; wa labi'sal mihaad)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُؕ-وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ(206) || اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے ضد مزید گناہ پر ابھارتی ہے توایسے کو جہنم کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا ٹھکاناہے۔ || اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے ضد مزید گناہ پر ابھارتی ہے توایسے کو جہنم کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا ٹھکاناہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 206 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ: اور جب اس سے کہا جائے۔} منافق آدمی کی ایک علامت یہ ہوتی ہے کہ اگر اسے سمجھایاجائے تو اپنی بات پراڑ جاتا ہے، دوسرے کی بات ماننا اپنے لئے توہین سمجھتا ہے، نصیحت کئے جانے کو اپنی عزت کا مسئلہ بنالیتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے، گھروں میں دیکھ لیں تو لڑکی والے لڑکے یا اس کے گھر والوں کو نہیں سمجھا سکتے،چھوٹے خاندان والے بڑے خاندان والوں کو نہیں سمجھا سکتے، عام آدمی کسی چودھری کو نہیں سمجھاسکتا، عوام کسی دنیوی منصب والے کو نہیں سمجھا سکتے، مسجدوں میں کوئی نوجوان عالم یا دینی مُبلغ کسی پرانے بوڑھے کو نہیں سمجھا سکتا، جسے سمجھایا وہی گلے پڑ جاتا ہے۔ دینی شعبے میں بھی اس خرابی کی کچھ کمی نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے حال کی اصلاح فرمائے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now