Transliteration: (Wa minan naasi mai yashree nafsahub tighaaa'a mardaatil laah; wallaahu ra'oofum bil'ibaad)
{مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ: جو اپنی جان بیچتا ہے۔} شانِ نزول: حضرت صُہیب رومی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے، مشرکین قریش کی ایک جماعت نے آپ کا تعاقب کیا تو آپ سواری سے اترے اور ترکش سے تیر نکال کر فرمانے لگے کہ اے قریش! تم میں سے کوئی میرے پاس نہیں آسکتا جب تک کہ میں تیر مارتے مارتے تمام ترکش خالی نہ کردوں اور پھر جب تک تلوار میرے ہاتھ میں رہے اس سے ماروں گا اوراگر تم میرا مال چاہو جو مکہ مکرمہ میں مدفون ہے تو میں تمہیں اس کا پتا بتادیتا ہوں ، تم میرا راستہ نہ روکو۔ وہ اس پر راضی ہوگئے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے تمام مال کا پتابتادیا، جب آپ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آیت تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تمہاری یہ جاں فروشی بڑی نفع بخش تجارت ہے۔(ابن عساکر، صہیب بن سنان بن مالک۔۔۔ الخ، ۲۴ / ۲۲۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 207 تفسیر