Transliteration: (Yaaa ayyuhal lazeena aamanud khuloo fis silmi kaaaffatanw wa laa tattabi'oo khutuwaatish Shaitaan; innahoo lakum 'aduwwum mubeen)
{اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً: اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔} شانِ نزول: اہل کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے اصحاب، تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کے بعد شریعت مُوسَوی کے بعض احکام پر قائم رہے، ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے، اس روز شکار سے لازماً اِجتناب جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے بھی پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں صرف مُباح یعنی جائز ہیں ، ان کا کرنا ضروری تونہیں جبکہ توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت مُوسَوی پر عمل بھی ہوجاتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیاکہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہوگئے اب ان کی طرف توجہ نہ دو۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۰۸، ۱ / ۱۴۷)
یاد رکھیں کہ داڑھی منڈوانا، مشرکوں کا سا لباس پہننا ، اپنی معاشرت بے دینوں جیسی کرنا بھی سب ایمانی کمزوری کی علامت ہے جب مسلمان ہو گئے تو سیرت و صورت، ظاہروباطن، عبادات ومعاملات، رہن سہن، میل برتاؤ، زندگی موت، تجارت و ملازمت سب میں اپنے دین پر عمل کرو۔نیزیہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کا دوسرے مذاہب یا دوسرے دین والوں کی رعایت کرنا شیطانی دھوکے میں آنا ہے۔ اونٹ کا گوشت کھانا اسلام میں فرض نہیں مگر یہودیت کی رعایت کے لئے نہ کھانا بڑا سخت جرم ہے۔ کافروں کو راضی کرنے کیلئے گائے کی قربانی بند کرنابھی اسی میں داخل ہے۔ یونہی کسی جگہ اذان بند کرنا یا اذان آہستہ آواز سے دینا سب اسی میں داخل ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 208 تفسیر