Transliteration: (Wa maa tafarraqal lazeena ootul kitaaba il-la mim b'adi ma jaa-at humul baiyyinah )
{وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ: اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں ۔} اس آیت سے مراد یہ ہے کہ پہلے سے تو سب اس بات پر متفق تھے کہ جب وہ نبی تشریف لائیں گے جن کی بشارت دی گئی ہے تو ہم ان پر ایمان لائیں گے لیکن جب وہ نبی مکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ جلوہ افروز ہوئے تو ان میں پھوٹ پڑ گئی اور ان میں سے بعض آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر ایمان لائے اور بعض نے حسد اور عناد کی وجہ سے کفر اختیار کیا۔( خازن، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۳۹۹، مدارک، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۳۶۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البينة آیت 4 تفسیر