قرآن - 98:5 سورہ البينة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

5
وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ

Transliteration: (Wa maa umiroo il-la liy'abu dul laaha mukhliseena lahud-deena huna faa-a wa yuqeemus salaata wa yu-tuz zakaata; wa zaalika deenul qaiyimah )

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِﭤ(5) || اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ || اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البينة آیت 5 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ: اور ان لوگوں  کو تو یہی حکم ہوا کہ اللّٰہ کی عبادت کریں ۔} یہاں  سے یہ بیان کیا جا رہا کہ یہودیوں  اور عیسائیوں  کو تورات و انجیل میں  کیا حکم دیا گیا تھا،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں  کو تورات اور انجیل میں  تو یہی حکم ہوا کہ تمام دینوں  کو چھوڑ کر خالص اسلام کے پیروکار ہو کر اخلاص کے ساتھ اور شرک و نفاق سے دور رہ کر صرف اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور فرض نماز کو ا س کے اَوقات میں  قائم کریں  اور ان کے مالوں  میں  جو زکوٰۃ فرض ہو اسے دیں  یہ سیدھا دین ہے۔( خازن، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۳۹۹، مدارک، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۳۶۶، ملتقطاً)

آیت’’وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…کفار اس بات کے پابند ہیں  کہ وہ اسلام قبول کر کے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔

(2)…دین میں  عقائد اور اعمال دونوں  ہی ضروری ہیں ۔

(3)…وہی عمل مقبول ہے جس میں  خالص اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ تمہاری شکلوں  اور تمہارے مالوں  کی طرف نہیں  دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں  اور تمہارے اعمال کو دیکھتا کرتا ہے۔( مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ... الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴))

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now