قرآن - 89:21 سورہ الفجر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

21
كَلَّآۖ إِذَا دُكَّتِ ٱلۡأَرۡضُ دَكّٗا دَكّٗا

Transliteration: (Kallaaa izaaa dukkatil ardu dakkan dakka )

ترجمہ: کنزالایمان - كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا(21) || ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ || ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفجر آیت 21 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا: ہاں  ہاں  جب زمین ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔} یہاں  سے قیامت آنے پر جو ہولناک واقعات رونما ہوں  گے ان کا بیان کیا گیا ہے چنانچہ وہاں  کے تفصیلی واقعات کتب ِ اَحادیث بلکہ خود قرآنِ پاک میں  موجود ہیں  جیسے سورۂ تکویر، سورۂ انفطار، سورۃ القیامہ ، سورۂ زلزال وغیرہ میں  وہ اَحوال موجود ہیں ۔ یہاں  فرمایا گیا کہ زمین ٹکرا کرپاش پاش کردی جائے گی اور اس پر پہاڑ اور عمارت کسی چیز کا نام و نشان نہ رہے گا، نہ کوئی پہاڑ، نہ غار، نہ عمارت، نہ پلازے، نہ پل نہ کچھ اور یہ سب کچھ پہلے نَفخے کے وقت ہو گاجبکہ دوسرے نَفخہ پر زمین لوہے کی طرح سخت اور میدہ کی روٹی کی طرح چکنی و صاف ہوجائے گی۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now