Transliteration: (Wa jaaa'a Rabbuka wal malaku saffan saffaa )
{وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا: اور تمہارے رب کا حکم آئے گااور فرشتے قطاردر قطار۔} یہاں قیامت کا دوسرا منظر بیان فرمایا گیا کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم آئے گا اور فرشتے قطار در قطار آئیں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ کیلئے آنے کا بیان مُتشابہات میں سے ہے کہ ا س کے لغوی معنی معلوم ہیں لیکن حقیقی مراد اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے اور علمائِ تاویل کے اعتبار سے رب عَزَّوَجَلَّ کے آنے سے مراد اس کے اَحکام کاآنا ہے، کیونکہ یہ قطعی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ آنے جانے اور اس جیسے تمام عَوارض سے پاک ہے، وہ مکان سے مُنَزّہ ہے۔ اور حکمِ الٰہی آنے سے مراد حساب و کتاب کا حکم ، اور لوگوں کا فیصلہ ہے یعنی قیامت کے دن یہ احکام آئیں گے اور جہاں تک فرشتوں کے آنے کا تعلق ہے تو میدانِ محشر میں ہر آسمان کے فرشتوں کی علیحدہ قطار یا دوز خ کے ہر طبقہ اور جنت کے تمام طبقوں کی علیحدہ قطاریں یا مُقَرّب فرشتوں یا اور اَقسام کے فرشتوں کی علیحدہ علیحدہ قطاریں ہوں گی ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفجر آیت 22 تفسیر