قرآن - 48:21 سورہ الفتح ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

21
وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٗا

Transliteration: (Wa ukhraa lam taqdiroo 'alaihaa qad ahaatal laahu bihaa; wa kaanal laahu 'alaa kulli shai'in qadeera)

ترجمہ: کنزالایمان - وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا(21) || اور ایک اور جو تمہارے بل کی نہ تھی وہ اللہ کے قبضہ میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور دوسری غنیمتوں کا (بھی وعدہ فرمایا ہے) جن پر تمہیں قدرت نہیں ، انہیں اللہ نے گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ || اور دوسری غنیمتوں کا (بھی وعدہ فرمایا ہے) جن پر تمہیں قدرت نہیں ، انہیں اللہ نے گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفتح آیت 21 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا: اور دوسری غنیمتوں کا جن پر تمہیں قدرت نہیں ۔} یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک اور علاقے کی فتح اور ا س سے حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت کا تم سے وعدہ فرمایاہے جسے فتح کرنے پر تمہیں قدرت نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے انہیں  گھیر رکھا ہے تاکہ تم ان پر فتح و غنیمت حاصل کرو۔

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: اس علاقے سے فارس اور رُوم مراد ہے، اہلِ عرب ان سے جنگ کرنے پر قادر نہ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دین ِاسلام سے مُشَرّف فرمایا اور اس کی برکت سے عرب والوں کو اہلِ فارس اور رُوم سے جنگ کرنے کی قدرت عطا فرما دی ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں :اس سے خیبر مراد ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے پہلے سے وعدہ فرمایا تھا اور مسلمانوں کو کامیابی کی اُمید نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح دی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے فتحِ مکہ مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے ہر وہ فتح مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمائی۔(خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴ / ۱۵۴)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now