قرآن - 25:16 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

16
لَّهُمۡ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ خَٰلِدِينَۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ وَعۡدٗا مَّسۡـُٔولٗا

Transliteration: (Lahum feehaa maa yashaaa'oona khaalideen; kaana 'alaa Rabbika wa'dan mas'oolaa)

ترجمہ: کنزالایمان - لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَؕ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـٴُـوْلًا(16) || ان کے لیے وہاں من مانی مرادیں ہیں جن میں ہمیشہ رہیں گے تمہارے رب کے ذمہ وعدہ ہے مانگا ہوا۔ ترجمہ: کنزالعرفان جنتیوں کیلئے جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جو وہ چاہیں گے، وہاں ہمیشہ رہیں گے، یہ تمہارے رب کے ذمہ کرم پر مانگا ہوا وعدہ ہے۔ || جنتیوں کیلئے جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جو وہ چاہیں گے، وہاں ہمیشہ رہیں گے، یہ تمہارے رب کے ذمہ کرم پر مانگا ہوا وعدہ ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 16 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{لَهُمْ: ان کے لیے۔} یعنی جنتیوں  کے لئے جنت میں  ان کے مرتبے کے مطابق ہر وہ نعمت اور لذت ہو گی جو وہ چاہیں گے اور وہ جنت میں  ہمیشہ رہیں  گے۔( روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۱۶، ۶ / ۱۹۶)

{كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا: یہ تمہارے رب کے ذمہ کرم پر مانگا ہوا وعدہ ہے۔} مانگے ہوئے وعدے سے مراد یہ ہے کہ وہ وعدہ مانگنے کے لائق ہے یا اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو مؤمنین نے دنیا میں  یہ عرض کرکے مانگا: ’’ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً‘‘ یعنی اے ہمارے رب!ہمیں  دنیا میں  بھلائی عطا فرما اور ہمیں  آخرت میں  (بھی) بھلائی عطا فرما۔ یا یہ عرض کر کے مانگا: ’’رَبَّنَا  وَ  اٰتِنَا  مَا  وَعَدْتَّنَا  عَلٰى  رُسُلِكَ ‘‘ یعنی اے ہمارے رب! اور ہمیں  وہ سب عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں  کے ذریعے ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔( خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳ / ۳۶۸)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now