قرآن - 88:1 سورہ الغاشیة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

1
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡغَٰشِيَةِ

ترجمہ: کنزالایمان - هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِﭤ(1) || بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک تمہارے پاس چھا جانے والی مصیبت کی خبر آچکی۔ || بیشک تمہارے پاس چھا جانے والی مصیبت کی خبر آچکی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الغاشیة آیت 1 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{هَلْ اَتٰىكَ: بیشک تمہارے پاس آچکی۔} اس آیتِ مبارکہ میں  نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے خطاب ہے کہ اے دو عالَم کے سردار! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، آپ کے پاس ایسی مصیبت کی خبر آچکی جو چھا جانے والی ہے۔ اس سے مراد قیامت ہے جس کی شدّتیں  اور ہَولْناکیاں  ہر چیز پر چھا جائیں  گی۔ (روح البیان ، الغاشیۃ ، تحت الآیۃ : ۱، ۱۰ / ۴۱۲ ، مدارک، الغاشیۃ، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۳۴۲، خازن، الغاشیۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۳۷۱)  یونہی اس دن کافروں  کے دلوں  پر غشی اور چہروں  پر سیاہی چھا جائے گی جبکہ فرمانبردارمسلمانوں  کے دلوں  پر خوشی اور چہروں  پر روشنی چھا جائے گی۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now